متحدہ عرب امارات میں جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے رضاکاروں کا کہنا ہے کہ رواں موسم گرما ان کے لیے حالیہ برسوں کا مشکل ترین موسم رہا، کیونکہ مالکان کی جانب سے چھوڑ دیے گئے پالتو جانوروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
گرمیوں میں یہ مسئلہ ہر سال شدت اختیار کرتا ہے۔ درجہ حرارت بڑھتے ہی بہت سے مکین طویل چھٹیوں پر ملک سے باہر چلے جاتے ہیں اور کتے بلیاں سڑکوں پر، ویٹرنری کلینکس کے باہر یا خالی کیے گئے فلیٹوں میں رہ جاتے ہیں۔ تاہم رضاکاروں کے مطابق اس بار صرف چھٹیاں وجہ نہیں۔ ملازمت کی تبدیلی یا مستقل طور پر ملک چھوڑنے والوں کی تعداد بڑھی ہے اور ان میں سے کچھ اپنے جانور ساتھ نہیں لے جا رہے۔
آزاد رضاکار چیکو سنگھ کا کہنا ہے کہ اس موسم میں انہوں نے بلیوں، کتوں اور دیگر پالتو جانوروں سے متعلق ایسے واقعات معمول سے زیادہ دیکھے ہیں۔ ان کے بقول کیسز رکتے ہی نہیں، ایک ختم ہوتا ہے تو اگلا پیغام آ جاتا ہے۔ سب سے تکلیف دہ صورت حال وہ ہے جب مائیکروچپ لگے گھریلو جانور آوارہ جانوروں کے جھنڈ میں زندہ رہنے کی کوشش کرتے ملتے ہیں۔
مالی دباؤ بھی کم نہیں۔ علاج، خوراک اور پناہ گاہوں کے اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں جبکہ گرمیوں میں رضاکار، عارضی نگہداشت کرنے والے گھرانے اور عطیات تینوں کم ہو جاتے ہیں۔ کئی رضاکار یہ خرچ اپنی جیب سے پورا کرتے ہیں۔
تنظیموں کی اپیل ہے کہ سفر یا منتقلی سے پہلے جانور کی بورڈنگ یا ریلوکیشن کا بندوبست کریں اور خریدنے کے بجائے پناہ گاہ سے گود لینے کو ترجیح دیں۔ امارات میں جانور کو بے یار و مددگار چھوڑنا قابل سزا جرم ہے۔